قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ النِّيَاحَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1582.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ، مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ، فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا، بِدِرْعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : نوحہ اور بین کرنے کی ممانعت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1582.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا رواج ہے۔ نوحہ کرنے والی اگر بغیر توبہ کیے مرگئی تو اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے جسم پر تارکول کی قمیصیں ہوں گی، پھر ان پر آگ کے شعلوں کی قمیص پہنائی جائے گی۔‘‘