قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَوَجَدَهَا تُبَاعُ هَلْ يَشْتَرِيهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2392.   حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْصَرَ صَاحِبَهَا يَبِيعُهَا بِكَسْرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْ صَدَقَتَكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: صدقہ کی ہوئی چیز بک رہی ہو تو کیا صدقہ دینے والا اسے خرید سکتا ہے ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2392.   حضرت عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں ایک گھوڑا صدقہ کیا۔ پھر (بعد میں) انہوں نے دیکھا کہ اس کا مالک (جسے وہ گھوڑا صدقہ کے طور پر دیا گیا تھا) اسے کم قیمت پر بیچ رہا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اپنا صدقہ مت خریدو۔