قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2699.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت کی ترغیب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2699.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان کا یہ حق نہیں کہ اگر اس کے پاس کوئی ایسی چیز موجود جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے بارے میں لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو۔‘‘