قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ نَبِيذِ الْجَرِّ)

حکم : ضعیف الإسناد

ترجمۃ الباب:

3407.   حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي رُمَيْثَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَعْجِزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ، كُلَّ عَامٍ، مِنْ جِلْدِ أُضْحِيَّتِهَا سِقَاءً؟ ثُمَّ قَالَتْ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ، وَفِي كَذَا، وَفِي كَذَا، إِلَّا الْخَلَّ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مٹکے میں بنی ہوئی نبیذ

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3407.   ام المو منین سیدہ عا ئشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: کیا کوئی عورت ایسے نہیں کر سکتی کہ ہر سال اپنے قربا نی کے جا نور کی کھال سے مشکزہ بنا لیا کر ے؟(عورت کو یہ کام کرنا چا ہیے۔) پھر فرمایا: رسو ل اللہ ﷺ نے مٹکے میں اور فلا ں فلاں چیز میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ’’البتہ سر کہ رکھا جا سکتا ہے۔‘‘