قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابٌ فِي الْبِنَاءِ وَالْخَرَابِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4163 .   حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ فَقَالَ لَقَدْ طَالَ سَقْمِي وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ وَقَالَ إِنَّ الْعَبْدَ لَيُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلَّا فِي التُّرَابِ أَوْ قَالَ فِي الْبِنَاءِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: تعمیر اور ویرانی

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4163.   حضرت حارثہ بن مضرب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم لوگ حضرت خباب ؓ کی بیمار پرسی کے لئے ان کےہاں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: میری بیماری لمبی ہو گئی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمان: ’’موت کی تمنا نہ کرو‘‘۔ نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی دُعا کرتا۔ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’’بندے کو اپنے تمام (جائز) اخراجات کرنے کا ثواب ملتا ہے مگر جو مٹی میں خرچ کیا جائے‘‘۔ یا فرمایا: ’’عمارت بنانے میں خرچ کیا جائے (اس کا ثواب نہیں ملتا‘‘)۔