قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

808.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَهَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ» قَالَ: هَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نمازمیں تعوذ پڑھنے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

808.   حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَهَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ)’’اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، مردود شیطان سے، اس کے چھونے سے، اس کی پھونک سے اور اس کے تھتکارنے سے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ: اس کے چھونے سے مراد ’’موتہ‘‘ کی بیماری ہے۔ اور اس کا تھتکارنا شاعری ہے‘ اور اس کی پھونک تکبر ہے۔