قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّﷺ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

910.   حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِرَجُلٍ «مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟» قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ، وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: «حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: تشہد اور درود (کے بعد)کے اذکار

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

910.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا: ’’تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ قسم ہے اللہ کی! مجھے وہ دعائیں تو آتی نہیں جو آپ آہستہ آہستہ پڑھتے رہتے ہیں یا جو معاذ رضی اللہ گنگناتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہم بھی یہی کچھ گنگناتے ہیں۔‘‘