موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ)
حکم : صحیح
939 . - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: «قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ، فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: بارش والی رات میں جماعت میں شریک ہونا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
939. حضرت عبداللہ بن حارث نوفل ؓ سے روایت ہے کہ (ایک بار) جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے مؤذن کو اذان کہنے کا حکم دیا۔ اس دن بارش ہو رہی تھی۔ مؤذن نے کہا: (اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ) پھر (ابن عباس ؓ نے مؤذن سے) فرمایا: لوگوں میں اعلان کر دو کہ گھروں میں نماز پڑھ لیں۔ (مؤذن نے (صلو فی رحالکم) کہہ کر باقی اذان مکمل کر دی لوگوں نے انہیں کہا: آپ نے یہ کیا (عجیب کام) کر دیا؟ انہوں نے فرمایا: یہ کام انہوں نے بھی کیا تھا جو مجھ سے افضل تھے (رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح اذان کہلوائی تھی) کیا آپ مجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ میں لوگوں کو گھروں سے نکا لوں اور وہ گھٹنوں تک کیچڑے میں دھنستے ہوئے میرے پاس (نماز باجماعت کی ادائیگی کے لئے) آئیں؟