قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الرُّؤْيَا (بَابُ فِي كَونِ الرُؤيَا مِنَ اللهِ وَأَنَّهَا جُزءٌ مِّنَ النُّبُوَّةِ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

2263. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ " قَالَ: «وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ» فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ "

مترجم:

2263. عبد الو ہاب ثقفیٰ نے ایوب سختیانی سے، انھوں نے محمد بن سیرین سے، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فر یا :"(قیامت کا) زمانہ قریب آجا ئے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا ۔تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے۔۔مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک (پنتالیسواں )حصہ ہے خواب تین طرح کے ہو تے ہیں ۔اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوش خبری ہو تی ہے۔ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے۔اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے۔(اس کے اپنے تخیل کی کا ر فر ئی ہو تی ہے۔)اگر تم میں سے کو ئی شخص ناپسندیدہ سخواب دیکھے تو کھڑا ہو جا ئے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتا ئے۔"فر یا :"(پاؤں کی) بیڑی خواب میں دیکھنا ) مجھے پسند ہے اور گلے کا) طوق ناپسند ہے ۔بیڑی دین میں ثابت قدمی (کی علامت ) ہے۔"(ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہو ئے کہا :) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث (نبوی) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے۔