قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

2331. حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟» قَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ

مترجم:

2331. ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا، آپ ﷺ کو پسینہ آیا، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ ﷺ کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی، آپ ﷺ کی آنکھ کھل گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ ﷺ کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔