قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1178.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: «السَّرَاوِيلُ، لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ وَالْخُفَّانِ، لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ» يَعْنِي الْمُحْرِمَ

صحیح مسلم:

کتاب: حج کے احکام ومسائل 

  (

باب: حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کے لیے کیا پہننا جائز ہے اور کیا ممنوع ؟نیز اس کےلیے خوشبو کا استعمال ممنوع ہے

)
  باب تمہید

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1178.   حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انھوں نے جابر بن زید سے، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’شلوار اس کے لئے (جائز) ہے جسے تہبند نہ ملے، اور موزے اس کے لئے جسے جوتے میسر نہ ہو،‘‘ یعنی احرام باندھنے والے کے لئے۔