قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالمُزَارَعَةِ (بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1573.   حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ؟»، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَكَلْبِ الْغَنَمِ.

صحیح مسلم:

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت

 

کتاب تمہید  (

باب: کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1573.   معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے سنا اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ’’ان لوگوں کا کتوں سے کیا واسطہ ہے؟‘‘ بعد میں آپﷺ نے شکاری کتے اور بکریوں (کی حفاظت) والے کتے کی اجازت دے دی۔