قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ اسْتِحْبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكْلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنْ أَذًى، وَكَرَاهَةِ مَسْحِ الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2031.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2031.   عمرو نے عطاء سے، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے جب تک اسے (اپنی انگلیوں کو) خود نہ چاٹ لے یا کسی اور کو نہ چٹوالے۔‘‘ (جسے محبت ہو وہ چاٹ سکتا ہے۔)