قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2118.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ الْوَجْهِ فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ

صحیح مسلم:

کتاب: لباس اور زینت کے احکام

 

کتاب تمہید  (

باب: جانوروں کے منہ پر مارنے اور داغ کر منہ پر نشانی لگا نے کی ممانعت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2118.   حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگانے کے لیے داغا گیا تھا آپﷺ نے اس کو بہت برا خیال کیا، انھوں نے (حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے کہا: اللہ کی قسم! میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کرتا۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین (کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا۔