قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

213.   وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ».

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: اہل جہنم میں سب سے کم عذاب والے شخص

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

213.   شعبہ نے  ابو اسحاق  سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نےکہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کو خطاب کرتے ہوئے سنا، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا، آپ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن دوزخیوں میں سے سب کم عذاب اس آدمی کو ہو گا، جس کے تلووں کےنیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے، ان سے اس کا دماغ کھولے گا۔‘‘