قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَاب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا ﷺ وَصِفَاتِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2301.   حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ». فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ فَقَالَ: «مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ» وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ»

صحیح مسلم:

کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: ہمارے نبی کریم ﷺ کا حوض اور اس کی خصوصیات

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2301.   ہشام نے قتادہ سے، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن (انصاراصلاً یمن سے تھے) کے لیے لو گوں کو ہٹاؤں گا۔ میں (اپنے حوض کے پانی پر) اپنی لاٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا۔‘‘ آپ سے اس (حوض ) کی چوڑائی کے بارے میں پو چھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے کھڑے ہونے کی (اس) جگہ سے عمان تک۔‘‘ اور آپ ﷺ سے اس (حوض ) کے مشروب کے بارے میں پو چھا گیا تو فرمایا: ’’وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پر نالے اس میں تیزی سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا۔‘‘