قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

392.   وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، «كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ، وَرَفَعَ» فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز میں ہر بار جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا ثابت ہے، سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے، وہاں صرف سمع الله لمن حمده کہا جائے گا

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

392.   ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور (سر اور جسم کو اوپر) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔