قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ، وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَأَوْسَطُهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتٍّ، وَالْحَثُّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

719.   حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَُ

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز چاشت کا استحباب ‘یہ کم از کم دو رکعتیں ‘مکمل آٹھ رکعتیں اور درمیانی صورت چار یا چھ رکعتیں ہیں‘نیز اس نماز کی پابندی کی تلقین

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

719.   عبدالوارث نے کہا: ہمیں یزید رشک نے حدیث سنائی، انھوں نے کہا، مجھے معاذہ نے حدیث سنائی، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کتنی (رکعتیں) پڑھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے (پڑھ لیتے)۔