قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ مَنْ أَشْعَرَ وَقَلَّدَ بِذِي الحُلَيْفَةِ، ثُمَّ أَحْرَمَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَؓ إِذَا أَهْدَى مِنَ المَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الحُلَيْفَةِ، يَطْعُنُ فِي شِقِّ سَنَامِهِ الأَيْمَنِ بِالشَّفْرَةِ، وَوَجْهُهَا قِبَلَ القِبْلَةِ بَارِكَةً

1696. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

تمہید کتاب (

باب : جس نے ذو الحلیفہ میں اشعار کیا اور قلادہ پہنایا پھر احرام باندھا

)
تمہید باب

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

اور نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓجب مدینہ سے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے کر جاتے تو ذو الحلیفہ سے اسے ہار پہنا دیتے اور اشعار کردیتے اس طرح کہ جب اونٹ اپنا منہ قبلہ کی طرف کئے بیٹھا ہوتا تو اس کے داہنے کوہان میں نیزے سے زخم لگا دیتے۔

1696.

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کی قربانیوں کے ہار اپنےہاتھ سے تیار کیے۔ آپ نے خود ان کے گلوں میں ہار ڈالے اور ان کا اشعار کیا، پھر انھیں مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ ایسا کرنے سے آپ پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو آپ کے لیے پہلے حلال تھی۔