قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ مَنْ قَلَّدَ القَلاَئِدَ بِيَدِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1700. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

تمہید کتاب (باب : اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے (قربانی کے جانوروں کو ) قلائد پہنائے)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1700.

حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن   بیان کرتیں ہیں کہ حضرت زیاد بن ابو سفیان نے حضرت عائشہ  ؓ کو لکھا کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں جو شخص مکہ مکرمہ کی طرف قربانی کا جانوربھیج دے اس پر ہر وہ چیز حرام ہو جاتی ہے جو حج کرنے والے پر حرام ہوتی ہے تاآنکہ اس جانور کو ذبح کردیا جائے۔ عمرہ کہتی ہیں۔ اس پر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ’’جو ابن عباس ؓنے کہا وہ درست نہیں ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدی (قربانی) کے ہار خود اپنے ہاتھ سے تیار کیے، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے ان قلادوں کو پہنایا اور میرے والد محترم کے ساتھ انھیں روانہ کیا مگر کوئی چیز جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال کی تھی وہ حرام نہیں ہوئی تاآنکہ اس ہدی کو ذبح کردیا گیا۔