قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (سُورَةُ النَّحْلِ قَوْلِهِ: {وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ})

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

4707. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرُ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

تمہید کتاب (باب: سورۃ نحل کی تفسیر آیت (( ومنکم من یرد الی ارذل العمر )) کی تفسیر ”یعنی اور تم میں سے بعض کو نکمی عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے“۔)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4707.

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ’’اے اللہ! میں بخل سے، سستی سے، نکمی عمر سے، عذاب قبر سے اور فتنہ دجال سے، نیز زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘