قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: کِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ (بَابُ سُؤَالِ النَّاسِ الإِمَامَ الِاسْتِسْقَاءَ إِذَا قَحَطُوا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

1008.   حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ: « [البحر الطويل] وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الغَمَامُ بِوَجْهِهِ ... ثِمَالُ اليَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ

صحیح بخاری:

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

)
 

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1008.   عبداللہ بن دینار ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ (اکثر) جناب ابو طالب کا شعر پڑھا کرتے تھے: ’’وہ گورے مکھڑے والا جس کے رخِ زیبا کے واسطے سے ابر رحمت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ وہ یتیموں کا سہارا، بیواؤں اور مسکینوں کا سرپرست ہے۔‘‘