قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

2003.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2003.   حضرت حمید بن عبدالرحمان سے روایت ہے انھوں نے حضرت امیر معاویہ  ؓ کو عاشوراء کے دن، جس سال انھوں نے حج کیا، منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اے اہل مدینہ !تمہارے علماء کہاں گئے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: ’’یہ عاشوراء کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا۔ البتہ میں روزے سے ہوں، اس لیے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے، اسے چھوڑ دے۔‘‘