قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَهِيَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ، فَنَزَلَ نَخْلًا، وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ، لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ»

4134.   حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سِنَانٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

یہ جنگ محارب قبیلے سے ہوئی تھی جو خصفہ کی اولاد تھے اور یہ خصفہ بنو ثعلبہ کی اولاد میں سے تھا ۔ جو غطفان قبیلہ کی ایک شاخ ہیں ۔ نبی کریمﷺنے اس غزوہ میں مقام نخل پر پڑاؤ کیا تھا ۔ یہ غزوئہ خیبر کے بعد واقع ہوا کیونکہ ابو موسیٰ اشعری ؓغزوہ خیبر کے بعد حبش سے مدینہ آئے تھے ( اور غزوہ ذات الرقاع میں ان کی شرکت روایتوں سے ثابت ہے )

4134.   حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لیے گئے تھے۔