قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: تقریری

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

4239.   حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَنَّ أَبَانَ بْنَ سَعِيدٍ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ وَقَالَ أَبَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ وَاعَجَبًا لَكَ وَبْرٌ تَدَأْدَأَ مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَيَّ امْرَأً أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِيَدِي وَمَنَعَهُ أَنْ يُهِينَنِي بِيَدِهِ

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: غزوئہ خیبر کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4239.   حضرت ابان بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور سلام عرض کیا تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ابن قوقل کا قاتل ہے۔ حضرت ابان ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہا: تجھ پر حیرت ہے، اے وبر! تو ضان پہاڑ سے اتر کر مجھے اس شخص کی موت کا طعنہ دیتا ہے جس کو اللہ تعالٰی نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کو اپنے ہاتھوں میری توہین سے روک دیا۔