قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ قُدُومِ الأَشْعَرِيِّينَ وَأَهْلِ اليَمَنِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَقَالَ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: «هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ»

4386.   حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: قبیلہ اشعر اور اہل یمن کی آمد کابیان

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

( یہ لوگ بصورت وفد ۷ھ میں خیبر کے فتح ہونے پر حاضر خدمت ہوئے تھے ) اورا بومو سیٰ اشعری ؓنے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا کہ اشعری لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں ۔

4386.   حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو تمیم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’اے بنو تمیم! تمہیں بشارت ہو۔‘‘ انہوں نے کہا: جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو مال بھی دیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ اس کے بعد یمن سے کچھ لوگ آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اہل یمن! تم ہی بشارت قبول کر لو جبکہ بنو تمیم نے قبول نہیں کی۔‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم یہ بشارت قبول کرتے ہیں۔