قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا})

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

4863.   حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ فِيهَا سَجْدَةٌ وَالنَّجْمِ قَالَ فَسَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ مَنْ خَلْفَهُ إِلَّا رَجُلًا رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا وَهُوَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: آیت (( فاسجدوا للہ واعبدوا )) کی تفسیریعنی”پس خاص اللہ کے لیے سجدہ کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو“

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4863.   حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سب سے پہلے جو سجدے والی سورت نازل ہوئی وہ سورہ نجم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سجدہ کیا تو جتنے لوگ آپ کے پیچھے تھے سب نے سجدہ کیا مگر ایک آدمی کو میں نے دیکھا کہ اس نے مٹھی بھر مٹی لی اور اس پر سجدہ کیا۔ اس کے بعد میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا اور وہ شخص امیہ بن خلف تھا۔