قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ})

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

4871.   حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَوْ مُذَّكِرٍ فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ قَالَ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ دَالًا

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: آیت (اعجاز نخل )کی تفسیر ”(وہ ہلاک شدہ کافر) گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے تھے سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا“۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4871.   حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے ایک شخص کو اسود سے پوچھتے ہوئے سنا کہ سورہ قمر میں آیت ﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ ہے یا مذكر ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنا، وہ ﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ پڑھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ کو ﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ پڑھتے سنا ہے۔