قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ «لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ ﷺ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا»)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6031.   حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلاَ فَحَّاشًا، وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ المَعْتِبَةِ: «مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ»

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: آنحضرت ﷺ سخت گو اور بد زبان نہ تھے۔فاحش بکنے والا اور ” متفحش “ لوگوں کو ہنسا نے کے لئے بد زبانی کرنے والا بے حیائی کی باتیں کرنے والا ۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6031.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ گالی گلوچ کرنے والے اور بے ہودہ کام کرنے والے نہیں تھے۔ اور نہ لعنت ملامت ہی کرنا آپ کی عادت تھی۔ اگر آپ ہم میں کسی پر ناراض ہوتے تو اتنا فرماتے: ”اسے کیا ہوگیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔“