قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6161.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلاَمٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالقَوَارِيرِ»

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: لفظ ” ویلک “ یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6161.   حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک سیاہ فام غلام تھا۔ اے انجثہ کہا جاتا تھا۔ وہ حدی پڑھ کر اونٹ چلا رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے انجثہ! افسوس تجھ پر، آبگینوں کو آہستہ آہستہ لے کر چلو۔“