قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا المُرْسَلِينَ} [الصافات: 171])

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

7455.   حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا جِبْرِيلُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ كَانَ هَذَا الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

 

کتاب تمہید  (

باب: اللہ کا فرمان ( سورۃ والصافات میں ) کہ’’ ہم تو پہلے ہی اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے باب میں یہ فرما چکے ہیں کہ ایک روز ان کی مدد ہو گی اور ہمارا ہی لشکر غالب ہو گا‘‘

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7455.   سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: ”اے جبر ئیل! آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ مرتبہ آنے میں کیا رکاوٹ ہے جتنا آپ سے پہلے آتے رہتے ہیں؟“ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے۔ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے۔۔۔۔۔۔ آیت کریمہ میں مذکورہ جواب سیدنا محمد ﷺ کے لیے نازل ہوا۔