قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: مرسل ، قسم الحديث: قولى

‌صحيح البخاري: کِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ (بَابُ مَا قِيلَ فِي الزَّلاَزِلِ وَالآيَاتِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1036. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمْ الْمَالُ فَيَفِيضَ

صحیح بخاری:

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

تمہید کتاب (باب: بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں۔)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1036.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہ ہو گی حتی کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلے بکثرت آئیں گے، وقت کم ہوتا جائے گا، فتنوں کا ظہور ہو گا اور قتل و غارت عام ہو گی، یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال و دولت کی بہتات ہو گی، یعنی وہ عام ہو جائے گا۔‘‘