قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابٌ تَرْكُ الزِّينَةِ لِلْحَادَّةِ الْمُسْلِمَةِ دُونَ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ)

حکم : صحیح 

3533. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

مترجم:

3533.

حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نبیﷺ کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہؓ کے ہاں حاضر ہوئی جب ان کے والد محترم حضرت ابوسفیان بن حرب ؓ فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے خوشبو منگوائی اور ایک بچی کو لگائی‘ پھر خوشبو والے ہاتھ اپنے رخساروں پر مل لیے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جوعورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے مگر خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا ہوگا۔“