قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ التَّحَرِّي)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1242.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ قَالَ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (شک کی صورت میں صحیح تعداد جاننے کی) جستجو کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1242.   حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھی جس میں آپ سے زیادتی یا کمی ہوگئی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے پوچھا گیا: کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمھیں بتا دیتا۔ لیکن میں بھی ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جس آدمی کو بھی اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ دیکھے کون سی بات صحت کے زیادہ قریب ہے۔ پھر اس کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے۔ پھر سلام پھیرے اور (سہو کے) دو سجدے کرے۔