قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1994.   أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطَانِ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے پڑھنے والے کاثواب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1994.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی میت کا جنازہ پڑھے، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جو شخص (جنازے کے بعد) انتظار کرتا رہے حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ دیا جائے تو اس کے لیے دو قیراط (ثواب) ہے اور دو قیراط دو عظیم پہاڑوں کی طرح ہیں۔“