قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1995.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ»، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے پڑھنے والے کاثواب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1995.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر ہو اور جنازہ پڑھے جانے تک رہے تو اس کے لیے ایک قیراط (ثواب) ہے اور جو دفن کیے جانے تک رہے تو اس کے لیے دو قیراط (ثواب) ہے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ قیراط کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عظیم پہاڑوں جیسے۔“