قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

1997.   أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے پڑھنے والے کاثواب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1997.   حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، اس کا جنازہ پڑھے، پھر واپس آ جائے تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو ساتھ جائے، جنازہ پڑھے، پھر بیٹھا رہے حتیٰ کہ تدفین سے فراغت ہو تو اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔ ہر قیراط احد (پہاڑ) سے بڑا ہوگا۔“