قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ إِخْرَاجِ الْمَيِّتِ مِنْ اللَّحْدِ بَعْدَ أَنْ يُوضَعَ فِيهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2019.   قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ: قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ: «أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ» وَاللَّهُ أَعْلَمُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت کو لحد میں رکھنے (کےبعد ( کسی وجہ سے نکالنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2019.   حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کو قبر میں رکھے جانے کے بعد نبی ﷺ تشریف لائے اور اسے باہر نکالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور کسی قدر اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا۔ اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اللہ تعالیٰ ہی (اس کی مصلحت) جانتا ہے۔