قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمُ النَّبِيِّ ﷺ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2351.   أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُمَا أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نبیﷺآپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2351.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ روزے رکھتے جاتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ چھوڑیں گے نہیں۔ اور آپ روزے چھوڑنے لگتے تو ہم کہتے: رکھیں گے نہیں، اور میں نے رسول اللہﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔