قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمُ النَّبِيِّ ﷺ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

2359.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لَا يَصُومُ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نبیﷺآپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2359.   حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بسا اوقات لگا تار روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ کہا جاتا: آپ چھوڑیں گے نہیں اور کبھی چھوڑنے لگتے حتیٰ کہ کہا جاتا: آپ رکھیں گے نہیں۔