قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ كَيْفَ التَّلْبِيَةُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2747.   أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ إِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: لبیک کیسے کہا جائے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2747.   حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو لبیک کہتے سنا۔ آپ فرما رہے تھے: [لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ! لَبَّيْكَ…لَا شَرِيكَ لَكَ] ”میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بلا شبہ تمام تعریفیں اور احسانات تیرے ساتھ خاص ہیں اور حکومت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ ذوالحلیفہ کی مسجد میں آپ کو لے کر کھڑی ہوتی تو آپ بلند آواز سے یہ کلمات ادا فرماتے۔