قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ الظِّهَارِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3459.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ قَالَ أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنْ امْرَأَتِهِ ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ قَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ وَقَالَ إِسْحَقُ فِي حَدِيثِهِ فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ الْمُسْنَدِ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ظہار کے مسائل

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3459.   حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا‘ پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے جماع کرلیا۔ آپ نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے چاندی میں اس کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ نے فرمایا: ”اب علیحدہ رہنا حتیٰ کہ تو اپنے ذمے واجب کفارہ ادا کرے۔“ اسحاق نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”اب اس سے علیحدہ رہنا حتیٰ کہ تو اپنے ذمے واجب کفارہ ادا کرے۔“ یہ الفاظ استاد محمد عبدالاعلیٰ کے ہیں۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی ؓ ) بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا دونوں روایتیں مسند کے بجائے مرسل ہی صحیح ہیں۔ واللہ أعلم۔