قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَاتِ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

3499.   أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا وَقَالَ وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ الْآيَةَ وَقَالَ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنْ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ وَقَالَ وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَقَالَ وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنْ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ تَعَالَى وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا(الاحزاب:49)

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: طلاق والی عورتوں کی عدت میں استثنا بھی ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3499.   حضرت ابن عباس ؓ نے (نسخ کے دلائل ذکر کرتے ہوئے) یہ آیات پڑھیں: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ.....أَوْ مِثْلِهَا﴾ ”جو آیت ہم منسوخ کردیں یا بھلا دیں‘ ہم اس سے بہتر آیت لاتے ہیں یا اس جیسی۔“ اور فرمایا: ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً.....بِمَا يُنزلُ﴾ ”جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لے آتے ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ اپنی اتری ہوئی آیات کو خوب جانتا ہے۔“ اور فرمایا: ﴿يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ.....أُمُّ الْكِتَابِ﴾ ”اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے باقی رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس اصل کتاب ہے۔“ قرآن مجید میں سب سے پہلے قبلہ منسوخ ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ ”طلاق شدہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو (نیا نکاح کرنے سے) روک رکھیں۔“ پھر فرمایا: ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنْ الْمَحِيضِ.....ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ﴾ ”وہ عورتیں جو حیض سے نا امید ہو چکی ہیں‘ اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔“ (اس آیت کے ذریعے سے) پہلی آیت میں سے کچھ حصہ منسوخ کردیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ.......تَعْتَدُّونَهَا﴾ ”اگر تم عورتوں کو جماع سے پہلے طلاق دو تو ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔“