قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ (بَابُ جَمْعُ الْمُسْتَحَاضَةِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَغُسْلُهَا إِذَا جَمَعَتْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

360.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهَا إِنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا

سنن نسائی:

کتاب: حیض اور استحاضےسےمتعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: استحاضہ والی عورت دو نمازیں جمع کر سکتی ہے‘جمع کرے تو غسل بھی کرے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

360.   حضرت عائشہ ؓ سسے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ کے دور میں استحاضہ آتا تھا۔ اسے کہا گیا: تحقیق یہ ایک سرکش رگ کا خون ہے۔ اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے۔ اسی طرح مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء کو جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے۔ اور صبح کی نماز کے لیے الگ غسل کرے۔