قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْكَرَاهِيَةِ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3619.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ فَيَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت میں تاخیر مکروہ ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3619.   حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان شخص کے پاس کوئی چیز ہو جس میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہے‘ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین راتیں بھی گزارے مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہونی چاہیے۔“