قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ المُحَارَبَة (بَابُ تَحْرِيمِ الدَّمِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3983.   أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ تَحْرُمُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا»

سنن نسائی:

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان 

  (

باب: ناحق خون بہانا حرام ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3983.   حضرت نعمان بن سالم سے روایت ہے کہ مجھے عمرو بن اوس نے بیان کیا کہ میرے والد محترم حضرت اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں حتیٰ کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں … الخ۔ پھر ان کے جان و مال قابل احترام ہو جاتے ہیں الا یہ کہ ان کے ذمے اسلام کا کوئی حق بنتا ہو۔“