قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الضَّحَايَا (بَابُ الذَّبْحِ بِالسِّنِّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4404.   أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفُرًا وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ

سنن نسائی:

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دانت کے ساتھ ذبح کرنا(منع ہے)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4404.   حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ میں عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے(اور وہاں جانور بھی بطورغنیمت ملیں گے) اور ہمارے پاس چھریاں وغیرہ نہ ہوں تو(ہم جانور کیسے ذبح کریں)؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو(ذبیحہ حلال ہے) کھا سکتے ہو بشرطیکہ وہ چیز ناخن یا دانت نہ ہو۔ اور میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کرتا ہوں کہ دانت تو ایک ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“