قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابٌ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَهُوَ أَنْ يَقُولَ: أَبِيعُكَ هَذِهِ السِّلْعَةَ إِلَى شَهْرٍ بِكَذَا، وَإِلَى شَهْرَيْنِ بِكَذَا)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

4631.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ»

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ایک بیع میں دو شرطیں لگانا اور اس سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والا کہے کہ ایک ماہ کے ادھار پر یہ بھاؤ ہوگا اور دو ماہ کے ادھار پر بھاؤ دوسرا ہوگا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4631.   حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے قرض کی شرط پر بیع، ایک بیع میں دو شرطوں اور غیر موجود چیز کی بیع اور غیر مقبوضہ چیز کے منافع سے منع فرمایا ہے۔