قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ (بَابٌ عَلَامَةُ الْمُؤْمِنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5039.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ قَالَ الْقَاضِي يَعْنِي ابْنَ الْكَسَّارِ سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الَّذِي يَرْوِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَقَطَ الْوَاوُ مِنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ الْمَشْهُورُ بِالرِّوَايَةِ عَنْ الْبَصْرِيِّينَ وَهُوَ ثِقَةٌ ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي حَدِيثِ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ فِي بَابِ صِفَةِ الْمُسْلِمِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا أَعْلَمُ رَوَى حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَرْفُوعَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ بِزِيَادَةِ قَوْلِهِ وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ الْبَصْرِيَّ وَهُوَ فِي هَذَا الْجُزْءِ فِي بَابِ مَا يُقَاتِلُ النَّاسَ

سنن نسائی:

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: مومن کی نشانی

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5039.   حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں بن سکتا حتیٰ کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کر جو اپنے لیے کرتا ہے۔“ کتات الایمان اختتام پذیر ہوئی۔ قاضی ابن کسار کہتے ہیں کہ میں نے عبد الصمد بخاری سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ حفص بن عمر جو (حدیث:5000میں ) عبد الرحمٰن بن مہدی سے بیان کرتے ہیں میں انھیں نہیں جانتا۔ ہاں اگروہ حفص بن عمر و ربالی ہوں جو عمو بصریوں سے روایت کرتے ہیں تو وہ ثقہ راوی ہیں۔ قاضی کہتے ہیں کہ انھیں یہ کہتے ہوئےبھی سنا: میں نہیں جانتا کہ انس بن مالک سے مرفوع روایت ہے (امر ت ان اقاتل ....)(واستقبلوا قبلتنا)..... کے اضافے کے ساتھ سوائے عبد اللہ بن مبارک اور یحی ٰ بن ایوب مصری کےکسی نے حیمد الطویل سے بیان کی ہو۔ اور وہ اسی جز میں باب علی مایقاتل الناس کے تحت گزرچکی ہے۔