قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنَ الْمَغْرَمِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5472.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ هُوَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ التَّعَوُّذَ مِنْ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُكْثِرُ التَّعَوُّذَ مِنْ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ

سنن نسائی:

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: شدید قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5472.   حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے‘ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ قرض اور گناہ سے بہت زیادہ پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول!(کیا وجہ ہےکہ) آپ قرض اور گناہ سے بہت زیادہ پناہ طلب فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے پھر بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔“